! خون مانگو گے ؛ خون دینگے
مزاج کی بات ہے کہ ہم فطرتاً پتھر دل ثابت ہوئے ہیں - وہ بھی اس حد تک کہ ہمارے سامنے اگر کسی کے اپینڈکس کو نکال کر اس سے ربر بینڈ کی خدمات حاصل کرلی جائیں تب بھی ہم بے پروا رہیں گے. اس کے برعکس ایک نقطہ بہرحال ایسا ہے کہ جس پر ہم پگھل جاتے ہیں وہ یہ کہ کسی عزیز کو ضرورت خون کی بوتل کی آن پڑے - اس پر طرفہ یہ کہ اس لہو کی حاجت عزیز کی والدہ کو ہو - اس صورت میں تو ہمارے اندر کی مامتا جاگ اٹھتی ہے گویا :- '' سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہو'' - اور ہم پکار اٹھتے ہیں کہ '' حاضر حاضر لہو ہمارا ''. اسی قسم کا واقعہ - پانچ ماہ قبل پیش آیا جب ہمارے عزیر اسفند دار بھٹہ کی والدہ کو خون کی ضرورت پڑی - گرچہ یہ ہمارا پہلی بار تھا لیکن ہم نے پرواہ نہ کی اور اپنے یاماہا جنون ایک سو سی سی چیسس نمبر 223190 پر سوار ہوئے اور بلاجھجک سیال طبی مرکز پہنچے. وہاں پنچ کر ہم اسفند سے مخاطب ہوئے اور فرمایا : '' ہمارا خون حامل ہذا کو مطالبہ پر عطا کیا جائے گا '' ساتھ میں ہم عثمانی کو بھی لے گئے تھے کہ ضرورت دو خون کی بوتلوں...