Posts

Showing posts from June, 2026

ایک آلو، ہم، اور ہماری 'نباتاتی' زندگی

Image
  حضرات! میڈیکل کالج کے کوریڈورز کی خاک چھانتے اور طب کی دبیز کتابیں کھنگالتے ہوئے آج ایک ایسی اصطلاح سے مڈبھیڑ ہوئی کہ چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم تو خام خیالی میں اسے فقط دماغی مریضوں کا تذکرہ سمجھے بیٹھے تھے، مگر بغور جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ ظالموں نے تو پورے دورِ حاضر کا روزنامچہ لکھ مارا ہے۔ اس کیفیت کو فرنگی زبان میں 'Persistent Vegetative State' کہتے ہیں۔ سلیس اردو میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض بظاہر جاگتا ہے، آنکھیں بھی کھولتا ہے، مگر اس کی کسی بھی حرکت کا کوئی مصرف یا مقصد نہیں ہوتا (No purposeful behavior)۔ اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کیا ہم سب کا حال بھی من و عن ایسا ہی نہیں؟ زندگی بس ایک بے مقصد 'سلیپ ویک سائیکل' (Sleep-wake cycle) بن کر رہ گئی ہے۔ گویا تسلیمؔ نے برسوں پہلے ہمارے اسی جدید معمول کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا تھا: صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے   عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے اس مستقل نباتاتی کیفیت (Vegetative State) کو دیکھتے ہوئے اگر آج کے انسان کا تقابل ایک عام 'آلو' سے کیا جائے تو، سچ جانیے، آلو کا پلڑا کہیں زیادہ بھاری اور باوقار معلوم ہو...

Phantom Pain - A Philosophical Deep Dive - Dr. Abdullah Sheikh

Image
 کچھ ہجرتیں محض جسمانی نہیں ہوتیں، وہ روح کے بخیے ادھیڑ دیتی ہیں۔ جب جسم کا کوئی حصہ کٹ کر الگ ہو جائے تو کیا دماغ اسے اتنی آسانی سے بھول پاتا ہے؟ نہیں... وہ ایک ان دیکھے، ان چھوئے درد کی صورت میں وہیں دھڑکتا رہتا ہے، کسک بن کر جاگتا ہے۔ دل کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ محبت میں جب کوئی بچھڑتا ہے—خواہ اسے ہم نے اپنی کٹھن، سنگلاخ اور طویل منزلوں کی خاطر خود ہی کیوں نہ شعوری طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہو—تو وہ ہماری ذات سے مکمل طور پر منہا نہیں ہوتا۔ اس کی چھوڑی ہوئی اس خاموش اور اداس جگہ کو یادیں، مانوس عادتیں، اور وہ گہری خاموشیاں بھر دیتی ہیں جو کبھی دو لوگوں کے درمیان طویل گفتگو کا کام کرتی تھیں۔ انسان دنیا کی نگاہ میں تو رخصت ہو جاتا ہے، لیکن دل کی اندھی ویرانیوں میں، ہماری روح کی   تاریں اب بھی اس وجود کو پکار رہی ہوتی ہیں  جسے اب لوٹ کر نہیں آنا، جو اب اس پکار کا جواب نہیں دے سکتا۔ پھر ایک دکھ وہ بھی ہوتا ہے، ان خوابوں کا دکھ جو سرے سے ہمارے تھے ہی نہیں۔ یہ اس شخص کی اذیت کی مانند ہے جو پیدائشی طور پر کسی عضو سے محروم ہو، مگر پھر بھی اس کا دماغ اس ان دیکھے، ان سہے حصے...