Posts

Showing posts with the label satire

! خون مانگو گے ؛ خون دینگے

Image
     مزاج کی بات ہے کہ ہم فطرتاً پتھر دل ثابت ہوئے ہیں - وہ بھی  اس حد تک کہ  ہمارے سامنے اگر کسی  کے اپینڈکس کو نکال کر اس سے ربر بینڈ کی خدمات حاصل کرلی جائیں تب بھی ہم بے پروا رہیں گے. اس کے برعکس ایک نقطہ بہرحال ایسا ہے کہ جس پر ہم پگھل جاتے ہیں وہ یہ کہ کسی عزیز کو ضرورت خون کی بوتل کی آن پڑے - اس پر طرفہ یہ کہ اس لہو کی حاجت عزیز کی والدہ کو ہو - اس صورت میں تو ہمارے اندر کی مامتا جاگ اٹھتی ہے گویا :- '' سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہو'' - اور ہم پکار اٹھتے ہیں کہ '' حاضر حاضر لہو ہمارا ''.     اسی قسم کا واقعہ - پانچ ماہ قبل پیش آیا جب  ہمارے  عزیر اسفند دار بھٹہ کی والدہ کو خون کی ضرورت پڑی - گرچہ یہ ہمارا پہلی بار تھا لیکن ہم نے پرواہ نہ کی اور اپنے یاماہا جنون  ایک سو سی سی چیسس نمبر 223190 پر سوار ہوئے اور بلاجھجک سیال طبی مرکز پہنچے. وہاں پنچ کر ہم اسفند سے مخاطب ہوئے اور فرمایا :  '' ہمارا خون حامل ہذا کو مطالبہ پر عطا کیا جائے گا '' ساتھ میں ہم عثمانی کو بھی لے گئے تھے کہ ضرورت دو خون کی بوتلوں...

شبِ بون فائر مع شبِ ہجراں - فکاہیہ

Image
بے خطر کود پڑا آتشِ بون میں گامی  شیخ ہے محو تماشا رحیم یار خان ابھی آگ کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے چار اہم ہیں :- ١. پہلی قسم لغوی آگ جسے لگانے کے لیے ماچس یا لائٹر کا ہونا لازمی ہوتا ہے. ایندھن کے طور پر سوئی سے نکلی گیس، ایل - پی- جی، ایل - این - جی (اگر اس مخفف سے کسی کے ذہن میں سابق وزیراعلیٰ پنچاب کے کیسز آئیں تو ہمارا قصور نہیں. میڈیا کا ہے)، کوئلہ یا لکڑی بھی استعمال ہوتی ہے. ازمنہ وسطیٰ میں اسے چنگاری سے لگایا جاتا تھا جس پر شاعر نے کہا ہے کہ :- آنکھ میں پانی رکھ، ہونٹوں پہ چنگاری رکھ ڈاکٹر بننا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھ ٢. دوسری قسم اصطلاحی آگ ہے. جو دو یا دو سے زیادہ  افراد کے گروہ کے درمیان لگائی جاتی ہے. اس میں '' چغلی اور غیبت '' سے نمایاں فوائد حاصل کیے جاتے ہیں. معاملہ اگر سنگین بنانا مقصود ہو تو'' گالم گلوچ'' کو بھی دعوت دی جاتی ہے. اس قسم کی آگ لگانے میں خاوندی ہم سے زیادہ ماہر ہے. اکثر کہتا ہے :- غیبت تھی نہ کوئی چغلی تھی ان کے پاس عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے ٣.تیسری قسم جنگل ...

سفید کوٹ تقریب مع حلف برداری - فکاہیہ

Image
خرید لایا میں نیلام سے سفید کوٹ جو پھٹ کے چل نہ سکے ،یہ نہیں ہے ایسا نوٹ جناب توجہ طلب بات ہے کہ ڈاکٹر بننے اور کہلانے کے لیے انسان کو تین چیزیں ضرور اٹھانا پڑتی ہیں. ایک اوور آل ہے جسے اصطلاح میں ''وائٹ کوٹ'' کہتے ہیں. دوسری اسٹیتھوسکوپ ہے جسے ہر وقت گلے میں ہار کی مانند لٹکائے رکھنا ہوتا ہے. تیسری چیز مادی وجود نہیں رکھتی مگر اہمیت اس کی بہت ہے ، لغت میں اسے ''بقراطی حلف'' کہتے ہیں. ابتدائی طور پر اسے دو تین صدیاں قبل مسیح، ڈاکٹر بقراط نے کٹ مارکر سے لکھوایا تھا. ڈاکٹر بقراط کو مغربی طب کا ڈیڈی مانا جاتا ہے( والدہ مگر مدر ٹریسا ہی ہونا قرار پائی ہیں.) مندرجہ بالا حلف کا مقصد جو ہمیں معلوم ہوا ہے، غالباً یہ کہ ننھے ڈاکٹر میں طبی اخلاقیات کا رجحان پیدا ہو اور وہ اپنے فرائض کو بخوبی طور پہ عملی ویسٹ کوٹ پہنائے. اس حلف کا قدیم ترین نسخہ جو موجود ہے وہ خاکی کاغذ پر یونانی زبان میں لکھا گیا ہے اور ہماری پیدائش سے تقریباً 1700 سال پرانا ہے۔  اب چونکہ بحیثیتِ مجموعی ہم انگریزوں اور یونانیوں، الغرض مغرب کے اطوار کو اپنانا جدّت خیا...

شعبہِ طب میں ڈے ون -عبداللہ شیخ

Image
تاریخ گواہ ہے کہ جس دن قابیل نے ہابیل کو مارا اور اس کو بچانے کے لیے کوئی ڈاکٹر آموجود نہ ہوا ' اسی دن سے  دنیا شعبہِ طب کی اہمیت کی معترف ہو گئی.  چند ہزار سال قبل مسیح شعبہِ طب کا اپنی ابتدائی شکل میں آغاز ہوا اور پانچ صدیاں قبلِ مسیح' 'بقراطی حلف' 'وجود میں آیا جس کے تحت تمام ڈاکٹرو‍ں پر لازم قرار پایا کہ جس حالت میں بھی مریض کو پائیں ''  اس کا علاج کریں گے اور اس سے فیس ضرور وصول کریں. '' طب کے سلسلے میں آگے چلیں تو حضرت مسیح علیہ السلام نے مُردوں کو زندہ کرنے کا فن حاصل کر لیا.   یہ فن چونکہ خدا کا دیا ہوا معجزہ تھا لہذا مستقبل میں آنے والے ڈاکٹر اس مرتبے پر  تو نہ پہنچ سکے  بہرحال انہوں نے دو چیزوں میں ید طولی' حاصل کرلیا.   اول تو یہ کہ جو شخص مر  رہا ہو تو اس کو زندہ کر لیتے ہیں.  دوسری صورت یہ ہے کہ زندوں کو ہی مار دیتے ہیں.  اول الذکر صورت حال پیش آنے پر ڈاکٹر کا کمال قرار دیا جاتا ہے اور وہ شہر کا.'فارن کوالیفائیڈ اینڈ موسٹ  ایکسپیرینسڈ'' ڈاکٹر قرار پاتا ہے.   اور اگر خدانخواستہ، خاکم بدہن، میرے ...