Posts

دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم

Image
                                دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم بچپن میں محلے کی بزرگ خواتین سے اکثر ایک کہاوت سننے کو ملتی تھی کہ "دو ماؤں کا بچہ اکثر بھوکا مرتا ہے " ۔ اس وقت ہم اسے محض ایک گھریلو طعنہ یا ادبی مبالغہ سمجھتے تھے، اور دل ہی دل میں ان کی قدامت پسندی پر مسکراتے تھے۔ پھر ہم نے ڈاکٹری کی تعلیم شروع کر دی، اور یہ سوچ کر سینہ چوڑا کر لیا کہ اب ہم سائنس کی ان بلندیوں کو چھوئیں گے جہاں ان دیسی کہاوتوں کا کوئی گزر نہیں ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد بھی ہمارا وہ پرانا ادبی پہلو مر نہیں سکا اور ہم نے سائنس میں بھی ادب کو ڈھونڈ ہی لیا۔ دماغ کے نوابی محلے علمِ اعصاب  کی موٹی کتابوں میں ہمارا سامنا دماغ کے کچھ ایسے 'وی آئی پی' علاقوں سے ہوا جنہیں انگریزی میں 'واٹر شیڈ زونز'   کہا جاتا ہے۔ ان کی نوابی کا یہ عالم ہے کہ انہیں خون فراہم کرنے کے لیے ایک نہیں بلکہ دو دو شریانیں مقرر ہوتی ہیں۔ دیکھنے والا رشک کرے گا کہ کیا خوش قسمت علاقے ہیں جنہیں دو دو طرف سے رزق پہنچ رہا ہے۔ مگر جناب، قد...

The Epidemiology of the Yellow Ghost: A Clinical Trial in Reclaiming My Brain 👻📉

 The Epidemiology of the Yellow Ghost: A Clinical Trial in Reclaiming My Brain 👻📉 For years, humanity has survived plagues, famines, and the grueling rigors of medical training. Yet, nothing could have prepared us for the most debilitating affliction of the 21st century: the compulsion to photograph a ceiling fan every twenty-four hours just to sustain a pixelated fire emoji. 🔥 After conducting a rigorous, first-hand clinical trial on my own sanity, I am officially announcing my retirement from the "Streak" industry. Here are the findings of my qualitative study: 1. The Counterfeit Currency of Intimacy 📱 We have somehow convinced ourselves that sending a blurry image of our forehead inscribed with a solitary "S" to 50 people constitutes a relationship. It is a fake connectivity. We are led to believe we are involved in each other’s lives, but in reality, we are just consuming a highly curated, ten-second mirage that evaporates the moment the screen goes dark. 2....

قصہ ہمارے نکاح کا

Image
  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔  ‏ اے لوگو ہمارا نکاح نہیں ہوا ۔  خدا کی قسم ! ہمارا نکاح نہیں ہوا ۔  ‏ نکاح تو دور کی بات ، اللہ جانتا ہے منگنی بھی نہیں ہوئی  اور  نہ ہی کسی گھرانے میں ہمارے رشتے کی بات چلائی گئی ہے ۔ لہذا ہمیں اس قسم کے میسج کر کے شرمندہ نہ کیجئے کہ "عبداللہ ! کیا تمہارا نکاح ہوگیا ہے؟ " " میاں صاحب کیا  منگنی طے پا گئی ہے ؟ " کیونکہ یہ نہ  صرف ہمارے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ ان سوالات سے ہمیں مایوسی اور یہاں تک کہ ڈپریشن ہو رہا ہے کہ اس عمر میں جہاں ہمارے ہم جماعتوں کے بال بچے ہو چکے ہیں ( مثال کے طور پر محمد امین کو ہی لیجیے  جس نے فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس میں ایڈمیشن کے ساتھ ہی شادی کر لی اور پہلے پراف کی پریپس کے دوران اس کے ہاں اللہ کی رحمت آن موجود ہوئی ) اس کے برعکس ہم ابھی تک یہاں کنوارے پھر رہے ہیں اور آئندہ بہت سالوں تک خود کو اسی حالت میں پا رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں پھر ڈپریشن نہ ہو تو اور کیا ہو ؟  اس ساری صورتِ حال کے ذمہ دار بہرحال ہم خود ہیں ۔ ہوا کچھ اس ...

ایموجیز کا بیان - عالمی یومِ ایموجی

Image
ایموجیز کا بیان - عالمی یومِ ایموجی از محمد عبداللہ شیخ  آ ج دنیا بھر میں عالمی یومِ   ایموجی منایا جارہا ہے. اس سلسلے میں ایموجیز کا بیان لازمی سمجھا. یاد رہے کہ میسنجر پر بندر والی ایموجی نہایت خوبصورت اور ڈیٹیلڈ ہے. اس کے برعکس واٹس ایپ پر رونے والی ایموجی نہایت بہترین ہے اور آگ والی ایمعجی کے تو کیا کہنے. بالکل اصل کی مانند معلوم ہوتی ہے. ان دو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے علاوہ ہم کوئی ویب سائٹ زیادہ استعمال نہیں کرتے ورنہ ہمیں یقین ہے کہ انسٹاگرام اور اس قسم کی دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بہترین قسم کی ایموجی بہرحال ہوا کرتی ہوں گی. یہاں تک کہ ہمارے علم میں ہے کہ اسنیپ چیٹ پر تو بندے کو ہی ایموجی بنا دینے کا بندوبست موجود ہے.          مگر ذرا تصور کیجئے کہ کس طرح سے یہ ایموجیز ہمارے دماغوں کو مینیپولیٹ کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف آن لائن تحریر میں حُسن پیدا کرتی ہیں. ذرا یاد ہو تو، ایک وقت تھا کہ جب فیس بک پر صرف لائک کا سائن ہوا کرتا تھا. آہستہ آہستہ یہ ایموجیز سامنے آئیں یعنی لائک، لو، لاف، سیڈ اور اینگری. حال ہی میں کئیر ایموجی کا ب...

کرینیل نروز اور کافی

Image
حالیہ COVID-19 کا لاک ڈاؤن اور بوریت لیکن ہم جتنے بھی بور ہو جائیں ہم نے کتابیں نہ اٹھانے کی قَسم کھا رکھی تھی - مگر یہ قَسم اس وقت توڑنا پڑی جب شعبہ فعلیات کی جانب سے آن لائن تفویضات کا نوٹِس ملا- پہلی تفویض اور اتنے مشکل سُوالات کتاب اٹھاتے ہی بنی - ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے نہ جانے کیسے ہمیں کافی اعصاب، معاف کیجیے گا! "قحفی اعصاب" کے نام یاد کرنے کی سُوجھی، ہم نہیں جانتے، اور ہر بار کی طرح اِس بار بھی گامی، جو کہ ہمارا بہترین دوست ہے، سے رابطہ کیا گیا- اُس کے بعد جو دلچسپ حالات و واقعات پیش آئے، اُن کی داستان تحریری صورت میں پیشِ خدمت ہے - ارے! ارے! یہ تو ہم بتانا ہی بھول گئے کہ قحفی اعصاب، جنہیں انگریزی لغت میں cranial nerves کہتے ہیں، دراصل وہ اعصاب ہیں جو دماغ سے شروع ہو کر کھوپڑی کے سوراخوں سے گزر کر آتی ہیں اور ان کی کل تعداد 24 ہے -                 ہوا کچھ یوں کہ لاک ڈاؤن کے سبب گامی کے ہاں جانا تو ممکن نہ تھا لہٰذا فدوی نے سماجی رابطے کی ایپلیکیشن واٹس ایپ کا استعمال کیا اور یوں سراپا سوال ہوئے : "میاں گامی! ذرا یہ تو ...

قرنطینہ اور گامی

Image
اے پڑھنے والو! پڑھو کہ آج فدوی نے دورِحاضر کی ایک نہایت ہی نازک صورتحال پر لکھ ڈالا ہے. اس صورتحال سے نہ صرف ہم بلکہ گامی سمیت ہمارے تمام ہی احباب متاثر ہوئے ہیں. جو لفظ اس کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے وہ بہرحال ہماری موجودہ ادبی صلاحیتوں اور سمجھ بوجھ سے بالاتر ہے. گوگل نے اس کا ترجمہ الگ تھلگ رہنے کا کیا ہے جبکہ اردو پوائنٹ کے مطابق اس کے لفظی معنی ایک خاص مدت کے لیے ایک جگہ رہنے کے ہیں. گامی کے مطابق ا س کا مطلب طبی قید ہے.   ہمارا یہ ماننا ہے کہ یہ لفظ غیر ضروری طور پر اتنا مشکل رکھا گیا ہے. یہی وجہ ہے کہ پہلے تو ہم اس لیے  پریشان رہے کہ اس کی املا کیا ہو گی؟  قرطینہ، قرنطینہ، قرقطینہ یا کترینہ.  گویا ان چار میں سے ایک آخری لفظ ہمیں جانا پہچانا لگا کیونکہ محترمہ کو ہم نے ایک عدد جوس کے اشتہار میں غالب کے پسندیدہ آم کے ساتھ کچھ غیر اخلاقی حرکات کرتے دیکھا تھا جنہیں دلکھنے سے ہم عاجز ہیں.   بہر حال تین چار اساتذہ سے رہنمائی لینے کے بعد یہ بات مستند قرار پائی کہ اصل لفظ قرنطینہ ہے اور اس قرنطینہ کو حکومتِ وقت نے نافذ کیا ہے. اس کے نفاذ کی وج...

گیزر کا بیان - از عبداللہ شیخ

Image
           سردیاں آتی ہیں تو گیزر چلتا ہے ''  '' زیادہ سردیاں آتی ہے تو زیادہ گر چلتا ہے یہ کہاوت ہمارے بہترین دوست حضرت گامی کی کتاب فضولیات گامی سے ماخذ ہے.  اس کتاب کے دو فضائل ہیں :-  1.  ایک عام آدمی کی زندگی میں پیش آنے والے تمام ہی معمولی واقعات کو مثلا : ¶ سردیوں میں گیس فراہم کرنے والے ادارے ایس این جی پی ایل کی بے حسی کی بدولت ٹھنڈے پانی سے نہانا ¶ سارا سال شغل میں گزارنے کے بعد عین امتحان سے تیس چالیس دن پہلے جب پڑھائی میں مشغول ہو تو زندگی سے مایوس ہو جانا  ¶نو بیاہتے جوڑے سے بار بار سوال کرنا کہ خوشخبری کب سنا رہے ہو گویا آبادی میں خاطر خواہ اضافہ کی خبر کب سنا رہے ہو   اس قسم کے دیگر معاملات کو نہایت غیر معمولی انداز میں پیش کیا گیا ہے 2.  اس کتاب کی یہ فضیلت بھی ہے کہ یہ اس میگزین کی مانند ہے جس کی ہم نے کالج کے سال اول میں پرزور بنیاد رکھی مگر معاملہ بنیاد سے آگے نہ بڑھ سکا گویا نیڈو آئرن کی کمی کا شکار تھا اور آج تک اس کا شکار ہے گو دونوں کو کبھی شائع ہونے کا موقع ہی نہیں...