ایک آلو، ہم، اور ہماری 'نباتاتی' زندگی
حضرات! میڈیکل کالج کے کوریڈورز کی خاک چھانتے اور طب کی دبیز کتابیں کھنگالتے ہوئے آج ایک ایسی اصطلاح سے مڈبھیڑ ہوئی کہ چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم تو خام خیالی میں اسے فقط دماغی مریضوں کا تذکرہ سمجھے بیٹھے تھے، مگر بغور جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ ظالموں نے تو پورے دورِ حاضر کا روزنامچہ لکھ مارا ہے۔ اس کیفیت کو فرنگی زبان میں 'Persistent Vegetative State' کہتے ہیں۔ سلیس اردو میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض بظاہر جاگتا ہے، آنکھیں بھی کھولتا ہے، مگر اس کی کسی بھی حرکت کا کوئی مصرف یا مقصد نہیں ہوتا (No purposeful behavior)۔ اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کیا ہم سب کا حال بھی من و عن ایسا ہی نہیں؟ زندگی بس ایک بے مقصد 'سلیپ ویک سائیکل' (Sleep-wake cycle) بن کر رہ گئی ہے۔ گویا تسلیمؔ نے برسوں پہلے ہمارے اسی جدید معمول کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا تھا: صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے اس مستقل نباتاتی کیفیت (Vegetative State) کو دیکھتے ہوئے اگر آج کے انسان کا تقابل ایک عام 'آلو' سے کیا جائے تو، سچ جانیے، آلو کا پلڑا کہیں زیادہ بھاری اور باوقار معلوم ہو...