دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم

    

             

             دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم

بچپن میں محلے کی بزرگ خواتین سے اکثر ایک کہاوت سننے کو ملتی تھی کہ "دو ماؤں کا بچہ اکثر بھوکا مرتا ہے"۔ اس وقت ہم اسے محض ایک گھریلو طعنہ یا ادبی مبالغہ سمجھتے تھے، اور دل ہی دل میں ان کی قدامت پسندی پر مسکراتے تھے۔ پھر ہم نے ڈاکٹری کی تعلیم شروع کر دی، اور یہ سوچ کر سینہ چوڑا کر لیا کہ اب ہم سائنس کی ان بلندیوں کو چھوئیں گے جہاں ان دیسی کہاوتوں کا کوئی گزر نہیں ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد بھی ہمارا وہ پرانا ادبی پہلو مر نہیں سکا اور ہم نے سائنس میں بھی ادب کو ڈھونڈ ہی لیا۔

دماغ کے نوابی محلے

علمِ اعصاب  کی موٹی کتابوں میں ہمارا سامنا دماغ کے کچھ ایسے 'وی آئی پی' علاقوں سے ہوا جنہیں انگریزی میں 'واٹر شیڈ زونز'  کہا جاتا ہے۔ ان کی نوابی کا یہ عالم ہے کہ انہیں خون فراہم کرنے کے لیے ایک نہیں بلکہ دو دو شریانیں مقرر ہوتی ہیں۔ دیکھنے والا رشک کرے گا کہ کیا خوش قسمت علاقے ہیں جنہیں دو دو طرف سے رزق پہنچ رہا ہے۔

مگر جناب، قدرت کا مذاق تو تب شروع ہوتا ہے جب جسم میں کسی وجہ سے خون کا دباؤ انتہائی کم ہو جاتا ہے ۔ ایسے نازک وقت میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دونوں شریانیں مل کر اس علاقے کی مدد کرتیں، مگر یہاں بالکل وہی پرانی کہاوت سچ ثابت ہو جاتی ہے۔ دونوں شریانیں یہ سوچ کر اپنا ہاتھ کھینچ لیتی ہیں کہ "دوسری تو خون دے ہی رہی ہوگی"، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بیچارہ واٹر شیڈ کا علاقہ خون نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ کر تباہ ہو جاتا ہے ۔

ڈرم میں پھنسا آدمی اور حقوقِ نسواں

اب اس فاقہ کشی کا جو نتیجہ نکلتا ہے، وہ سن کر آپ کو مریض پر ترس بھی آئے گا اور سائنسدانوں کی حسِ مزاح پر حیرت بھی ہوگی۔ جب دماغ کی اگلی اور درمیانی شریانوں کے بیچ  یہ بھوک ہڑتال ہوتی ہے، تو مریض کے کندھے اور اوپری بازو کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ مگر قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ اس کی نچلی ٹانگیں بالکل بھلی چنگی رہتی ہیں۔

انگریزوں نے اس طبی حالت کا نام رکھنے میں جو ستم ظریفی دکھائی ہے، اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔ بجائے کوئی مشکل سا لاطینی نام رکھنے کے، وہ اسے بڑی خوشی سے "Man-in-a-barrel syndrome" پکارتے ہیں۔

یہاں پہنچ کر جدید دور کے حقوقِ نسواں کے علمبرداروں کو شدید اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس ڈرم میں صرف 'مرد' کو ہی کیوں پھنسایا گیا؟ کیا یہ صنفِ نازک کے ساتھ صریحاً زیادتی نہیں کہ انہیں اس سائنسی اعزاز سے محروم رکھا گیا اور کوئی
"Woman-in-a-barrel" ایجاد نہیں کیا گیا؟

لیکن اگر ہم ذرا گہرائی میں جا کر سوچیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس میں بھی خواتین کی کوئی قدیم دانشمندی پوشیدہ ہے۔ عورتیں تو ازل سے اتنی عقلمند واقع ہوئی ہیں کہ انہوں نے دور سے ہی اس تنگ و تاریک ڈرم کو دیکھ کر راستہ بدل لیا ہوگا۔ یہ تو مرد ہی کی روایتی جلد بازی اور بے وقوفی ہوگی کہ بغیر سوچے سمجھے ڈرم میں چھلانگ لگا دی، ٹانگیں باہر لٹکا لیں اور کندھے اندر پھنسا کر سائنسدانوں کو ایک نیا نام دے دیا۔ تو ثابت ہوا کہ عورتیں ڈرم میں اس لیے نہیں جاتیں کیونکہ ان کے پاس عقلِ سلیم موجود ہے!

اس نادیدہ ڈرم سے فرار کا راستہ

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فالج (Stroke) اور لکڑی کے نادیدہ ڈرم میں قید ہونے سے بچا کیسے جائے؟ ہم ڈاکٹر صاحبان پرچے پر دوائیاں تو لکھ دیتے ہیں، مگر اصل علاج تو مریض کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی شریانیں کسی حصے کو بھوکا نہ ماریں، تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

  • چکنائی سے پرہیز: سب سے پہلے اس 'چکنائی' نامی آفت سے جان چھڑانی ہوگی۔ ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ جب تک نہاری کے اوپر ایک انچ موٹی تیل کی تہہ نہ تیر رہی ہو، یا سوہن حلوے سے گھی نہ ٹپک رہا ہو، ہمیں لقمہ چبانے کا مزہ ہی نہیں آتا۔ یہ روزمرہ کے دیسی گھی کے تڑکے، تلی ہوئی اشیاء اور مکھن دراصل وہ خاموش قاتل ہیں جو آہستہ آہستہ آپ کی شریانوں میں کولیسٹرول کا ٹریفک جام کر دیتے ہیں۔ جب نالیاں بند ہوں گی تو ظاہر ہے دماغ کے ان 'نوابی محلوں' میں خون کیسے پہنچے گا؟

  • روزانہ کی ورزش: دوسرا مفت مشورہ ہم روزانہ کی ورزش کا دیتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں ورزش کا تصور بھی نرالا ہے۔ رات کو پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد، محلے کی بیکری تک چہل قدمی کرنے یا ڈرائنگ روم سے کچن تک جا کر پانی پینے کو ہم 'واک' سمجھتے ہیں۔ خدارا! روزانہ کم از کم تیس منٹ مستقل مزاجی سے پسینہ بہائیے، دل کی دھڑکن کو تیز کیجئے تاکہ خون کا دورانیہ چلتا رہے اور شریانوں کی صفائی ہوتی رہے۔

الغرض، میڈیکل کی مشکل ترین کتابیں پڑھ کر بھی ہم اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سائنس لاکھ ترقی کر لے، مگر پرہیز آج بھی علاج سے بہتر ہے۔ اپنی غذا سادہ رکھیے، جسم کو حرکت میں رکھیے، اور اپنے دماغی محلوں کو 'دو ماؤں کا بچہ' بننے سے بچائیے، ورنہ یاد رکھیے کہ لکڑی کا وہ تنگ ڈرم کسی بھی وقت آپ کے کندھوں کا ناپ لے سکتا ہے۔

 رہے نام اللہ کا!

Comments

Popular posts from this blog

لُڈو اِسٹار اور گامی - فکاہیہ

کرینیل نروز اور کافی

The Epidemiology of the Yellow Ghost: A Clinical Trial in Reclaiming My Brain 👻📉