Phantom Pain - A Philosophical Deep Dive - Dr. Abdullah Sheikh




 کچھ ہجرتیں محض جسمانی نہیں ہوتیں، وہ روح کے بخیے ادھیڑ دیتی ہیں۔ جب جسم کا کوئی حصہ کٹ کر الگ ہو جائے تو کیا دماغ اسے اتنی آسانی سے بھول پاتا ہے؟ نہیں... وہ ایک ان دیکھے، ان چھوئے درد کی صورت میں وہیں دھڑکتا رہتا ہے، کسک بن کر جاگتا ہے۔ دل کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ محبت میں جب کوئی بچھڑتا ہے—خواہ اسے ہم نے اپنی کٹھن، سنگلاخ اور طویل منزلوں کی خاطر خود ہی کیوں نہ شعوری طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہو—تو وہ ہماری ذات سے مکمل طور پر منہا نہیں ہوتا۔

اس کی چھوڑی ہوئی اس خاموش اور اداس جگہ کو یادیں، مانوس عادتیں، اور وہ گہری خاموشیاں بھر دیتی ہیں جو کبھی دو لوگوں کے درمیان طویل گفتگو کا کام کرتی تھیں۔ انسان دنیا کی نگاہ میں تو رخصت ہو جاتا ہے، لیکن دل کی اندھی ویرانیوں میں، ہماری روح کی تاریں اب بھی اس وجود کو پکار رہی ہوتی ہیں  جسے اب لوٹ کر نہیں آنا، جو اب اس پکار کا جواب نہیں دے سکتا۔

پھر ایک دکھ وہ بھی ہوتا ہے، ان خوابوں کا دکھ جو سرے سے ہمارے تھے ہی نہیں۔ یہ اس شخص کی اذیت کی مانند ہے جو پیدائشی طور پر کسی عضو سے محروم ہو، مگر پھر بھی اس کا دماغ اس ان دیکھے، ان سہے حصے کا درد شدت سے محسوس کرے۔ محبت میں بھی کچھ خواب، کچھ تعلق ایسے ہوتے ہیں جو کبھی تعبیر کی دہلیز تک نہیں پہنچ پاتے، لیکن روح نے ان کے لیے جو مسکن تراشا ہوتا ہے، وہ گہرے تعلق کی جو آس لگاتی ہے، اس کا خالی پن بجائے خود ایک جان لیوا کسک بن جاتا ہے۔ تب آپ محض کسی کے بچھڑنے کا نوحہ نہیں پڑھ رہے ہوتے... آپ تو دراصل اپنے ہی اندر چھپی اس بے پناہ، بے لوث اور اَن چھوئی محبت کی وسعتوں کا درد سہہ رہے ہوتے ہیں، جسے بہنے کے لیے کوئی راستہ، کوئی کنارہ نہ مل سکا۔

اگر ہم محبت کو روح کی سطح پر دیکھیں، تو یہ جدائی محض ایک سراب ہے۔ یہ فاصلے محض نظر کا دھوکا ہیں۔ مولانا رومیؒ سچ ہی تو کہتے ہیں:

"الوداع تو ان کے لیے ہے جو آنکھوں سے محبت کرتے ہیں۔ کیونکہ جو روح اور دل کی گہرائیوں سے عشق کرتے ہیں، ان کی لغت میں جدائی کا کوئی لفظ نہیں ہوتا۔"


یہ جو ان دیکھا درد ہے، یہ جو کسک آپ کے اندر جاگتی ہے، یہ اس بات کی سب سے بڑی اور کڑی دلیل ہے کہ فاصلے کبھی محبت کو مات نہیں دے سکتے۔ یہ وہ محبت ہے جسے اب اترنے کے لیے کوئی جسم، کوئی ٹھکانہ نہیں مل رہا، اور وہ روح کے تاریک حجروں میں مقید ہو کر بے قرار گونج رہی ہے۔

دنیا کی نظر میں یہ درد بھلے ہی بے نام اور بے وجود ہو، مگر آپ کے اندر یہ اتنا ہی حقیقی ہے جتنا کہ آپ کی اپنی سانس۔ یہ اس بات کا حتمی اور اٹل اعلان ہے کہ جنہیں ہم محبت سے چھوتے ہیں، اور بالخصوص وہ جنہیں ہم حالات کے جبر یا اپنے کٹھن راستوں کے انتخاب کی بھینٹ چڑھا کر جانے دیتے ہیں... وہ جاتے جاتے ہمیں اندر سے ہمیشہ کے لیے تبدیل کر جاتے ہیں۔ ہم پھر کبھی وہ نہیں رہتے، جو ہم ہوا کرتے تھے۔

 رہے نام اللہ کا!


Comments

Popular posts from this blog

دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم

لُڈو اِسٹار اور گامی - فکاہیہ

کرینیل نروز اور کافی