ایک آلو، ہم، اور ہماری 'نباتاتی' زندگی

 



حضرات! میڈیکل کالج کے کوریڈورز کی خاک چھانتے اور طب کی دبیز کتابیں کھنگالتے ہوئے آج ایک ایسی اصطلاح سے مڈبھیڑ ہوئی کہ چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم تو خام خیالی میں اسے فقط دماغی مریضوں کا تذکرہ سمجھے بیٹھے تھے، مگر بغور جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ ظالموں نے تو پورے دورِ حاضر کا روزنامچہ لکھ مارا ہے۔

اس کیفیت کو فرنگی زبان میں 'Persistent Vegetative State' کہتے ہیں۔ سلیس اردو میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض بظاہر جاگتا ہے، آنکھیں بھی کھولتا ہے، مگر اس کی کسی بھی حرکت کا کوئی مصرف یا مقصد نہیں ہوتا (No purposeful behavior)۔ اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کیا ہم سب کا حال بھی من و عن ایسا ہی نہیں؟ زندگی بس ایک بے مقصد 'سلیپ ویک سائیکل' (Sleep-wake cycle) بن کر رہ گئی ہے۔ گویا تسلیمؔ نے برسوں پہلے ہمارے اسی جدید معمول کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا تھا:

صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے 
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

اس مستقل نباتاتی کیفیت (Vegetative State) کو دیکھتے ہوئے اگر آج کے انسان کا تقابل ایک عام 'آلو' سے کیا جائے تو، سچ جانیے، آلو کا پلڑا کہیں زیادہ بھاری اور باوقار معلوم ہوتا ہے۔

انسان اور آلو کا تقابلی جائزہ

  • آلو کا نصب العین: مٹی میں دب کر بھی جڑیں پکڑتا ہے، نشوونما پاتا ہے، اور بالآخر کٹ مر کر، بھن کر یا ابل کر کسی کی بھوک مٹانے کے کام آ جاتا ہے۔ اس کی 'نباتاتی' زندگی میں بھی ایک عظیم مقصد پوشیدہ ہے۔

  • اشرف المخلوقات کی قلابازیاں: ہم اپنے خول میں قید ہیں، سکرین کی نیلی روشنی میں کڑھتے رہتے ہیں، اور اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر کسی کے کام آنا تو درکنار، کسی کی بات سننا بھی ہماری شان کے خلاف ہے۔

ہم تو دراصل وہ آلو بن چکے ہیں جو نہ کسی ہنڈیا میں گلنے کے قابل ہیں اور نہ کسی دسترخوان کی زینت بننے کے۔ فزیالوجی اور کمیونٹی میڈیسن کے اصول رٹتے رٹتے ہم یہ بنیادی سبق ہی بھول گئے کہ انسانیت کی معراج کیا ہے۔ ہم نے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو 'سائلنٹ موڈ' پر لگا رکھا ہے۔ حالانکہ سچی بات تو وہی ہے کہ:      

                                             اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
                                                    ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

ہماری کھیتی میں اب صرف 'بے مقصدیت' کی جڑی بوٹیاں اگتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اس 'ویجیٹیٹو اسٹیٹ' سے باہر نکلیں اور زندگی کو کوئی معنی پہنائیں۔ ورنہ اگر روزِ محشر افادیت کے پیمانے پر تولا گیا، تو ڈر ہے کہ ایک ابلا ہوا آلو بھی ہم سے آگے کھڑا مسکرا رہا ہوگا۔

 رہے نام اللہ کا!


Comments

Popular posts from this blog

دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم

Phantom Pain - A Philosophical Deep Dive - Dr. Abdullah Sheikh

لُڈو اِسٹار اور گامی - فکاہیہ