روشنی کا سراب

 


رات کے دو بجے ہوں، جسم سے پسینہ ایسے بہہ رہا ہو جیسے کوئی چشمہ پھوٹ پڑا ہو، اور اچانک واپڈا والوں کو اپنی سب سے پرانی دشمنی یاد آ جائے—اور 'بھڑام' کر کے لائٹ چلی جائے! پنکھا اچانک ایسی آہ بھرتا ہے جیسے اس کی آخری سانس نکل گئی ہو۔ پورے محلے میں ایک عجیب سا سناٹا اور پھر اچانک بچوں کے رونے اور بڑوں کے کوسنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔

مگر اس عذاب کے وقت بھی، آپ کے چہرے پر ایک مخصوص، تھوڑی شاطر اور تھوڑی فخر والی مسکراہٹ آتی ہے۔ آپ اندھیرے میں ہی دیوار پر لگے اس چھوٹے سے ڈبے (انورٹر) کی طرف دیکھتے ہیں جو تھوڑی دیر میں 'ٹک' کی آواز کرتا ہے اور پورے گھر میں پنکھے اور لائٹس دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ آپ سکون سے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں، *"چلو بیٹا، لیتھیم بیٹری فل چارج ہے، صبح تک کا بیک اپ پکا ہے۔ اور صبح ہوتے ہی سورج چاچو نکل آئیں گے، مفت کی بجلی پھر شروع۔ ہم نے تو اسباب کا سرتاج پکڑا ہوا ہے، دنیا جائے بھاڑ میں!"*

آپ اسی غرور اور سکون کے ساتھ بستر پر سیدھے ہوتے ہیں اور نیند کی آغوش میں جانے ہی والے ہوتے ہیں کہ اچانک اندھیرے میں سے، ذہن کے کسی کونے سے ایک گہری، سردی پھیلانے والی آواز آتی ہے:

"جانی، سب تو ٹھیک ہے... پر اگر کل صبح سورج مشرق کے بجائے مغرب سے نکل آیا... تب کیا کرو گے؟"

سوال کیا آتا ہے، مانو دماغ میں ایک دھماکہ ہوتا ہے۔ وہ جو لیتھیم بیٹری کا غرور تھا، وہ جو سولر پینلز کی منطق تھی، وہ سب ایک پل میں صفر محسوس ہونے لگتی ہے۔ اے سی کی ٹھنڈک اچانک برف بن کر جسم کو سن کر دیتی ہے۔

یہ سوال صرف سولر پینل کا نہیں ہے، یہ انسانی عقل، اس کی تدبیر اور اس کے کھڑے کیے ہوئے سارے دنیاوی اسباب پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہے۔

ہم انسانوں کی ساری زندگی اسی فکر میں گزر جاتی ہے کہ 'بیک اپ' کیا ہے؟ کیریئر کا بیک اپ، بینک بیلنس کا بیک اپ، صحت کا بیک اپ، اور بجلی کا بیک اپ۔ ہم نے ان اسباب کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے، پلاننگ ہے، اور کیلکولیشنز ہیں، ہم محفوظ ہیں۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ساری چالاکیاں، یہ سارے سسٹمز صرف اس وقت تک کام کر رہے ہیں جب تک اس کائنات کا مالک اس نظام کو چلنے دے رہا ہے۔

جس دن سورج مغرب سے نکل آیا، اس دن فزکس کے سارے قوانین فارغ ہو جائیں گے۔ سورج کی روشنی تب بھی آئے گی، فوٹونز تب بھی چلیں گے، پینلز شاید تب بھی تھوڑی بہت بجلی بنا دیں، لیکن اس بجلی کو استعمال کرنے والی دنیا ہی ختم ہونے کی طرف بڑھ چکی ہوگی۔ جب نظامِ کائنات ہی الٹی سمت میں چل پڑے، تو آپ کا اکٹھا کیا ہوا سب کچھ—وہ بینک بیلنس، وہ ڈگری، وہ اونچے گھر، وہ ہائی ٹیک انورٹرز—سب مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے۔

قرآنِ پاک اس گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورۃ الانعام (آیت 158) میں فرماتا ہے:

  ترجمہ : 

*"کیا یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آ جائیں، یا آپ کا رب خود آ جائے، یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آ جائے۔ جس دن آپ کے رب کی کچھ (خاص) نشانیاں آ جائیں گی، تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہیں پہنچائے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو، یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔"*

سورج کا مغرب سے نکلنا دنیا کی سب سے بڑی اور آخری نشانی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی خود مختاری (Free Will) ختم ہو جاتی ہے۔ اس دن ہر نافرمان کو یقین آ جائے گا، ہر متکبر کا سر جھک جائے گا، لیکن اس وقت کا یقین اور اس وقت کی توبہ بے فائدہ ہوگی۔ کیونکہ امتحان ختم ہو چکا ہوگا اور نتیجے کا وقت شروع ہو چکا ہوگا۔

ہم روز رات کو اس سکون سے سوتے ہیں کہ کل کا دن ایک عام دن ہوگا۔ ہم آنے والے کئی سالوں کی پلاننگ کرتے ہیں، اسباب جمع کرتے ہیں، لیکن اس آخری بیک اپ کی فکر نہیں کرتے جو موت کے بعد کام آنا ہے۔ زندگی کا 'انورٹر' تو چل رہا ہے، لیکن کیا اعمال کی بیٹری میں کچھ اسٹور بھی ہو رہا ہے یا وہ بالکل ڈسچارج پڑی ہے؟

جب اگلا جھٹکا لگے، اور لائٹ جائے، تو انورٹر کے چلنے پر سکون کا سانس ضرور لیں، لیکن اندھیرے میں بیٹھے ہوئے ایک پل کے لیے اس گہرے خیال میں ضرور ڈوبیں کہ اگر کل بازی الٹ گئی، تو ہمارے پاس کیا بچے گا؟

رہے نام اللہ کا 



Comments

Popular posts from this blog

دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم

Phantom Pain - A Philosophical Deep Dive - Dr. Abdullah Sheikh

لُڈو اِسٹار اور گامی - فکاہیہ