Posts

عید مبارک

Image
ا ے دیویو! اے سجنو! سلامِ مسنون ہوا چاہتا ہے. عید کا وقت ہوا چاہتا. بندہ مبارک باد پیش کرتا ہے. آپ کو، آپ کے گھر والوں کو، آپ کے گھر والے کو، آپ کی گھر والی کو (اخری دو اصناف پہ ابھی سب کا فٹ آنا لازم نہ ہے) کو ہماری اور ہماری نا مولود آل اولاد کی جانب سے عید مبارک  واضح رہے کہ یہ مبارک دل کی اتاہ گہرائیوں سے نہ ہے کہ وہ تو سب ایسا کہ رہے ہیں اور گامی کا فلسفہ ہے کہ اپنا معیاد زمانے سے جدا رکھنا چاہئیے لہذا یہ سطحِ دل سے اسے سطحِ دل پر ہی قبول کریں کہ اندر تو اندھیر ہے. ہمارے دل میں تو فی الحال ہے آپکا معلوم نہیں 👀 اس پر مسرت موقع پر ہم ان تمام احباب کے مشکور ہیں جنہوں نے ہم غریب کی افطاری کا سامان گاہے بگاہے کیا اور جنہوں نے اس عمل سے گریز کیا ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ایک عظیم سعادت سی محروم رہے. اس سلسلے میں '' افطاری '' کے نام سے تحریر جلد منظر عام پر آئے گی. ابھی اس ویڈیو لنک سے کام  چلائیں ◀ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2357508170975991&id=100001504927501 جہاں تک تعلق عیدی لینے دینے کا ہے تو اس میں سے ہم دونوں...

افطار اور تربوز

Image
یوں تو افطاری کرنا اور کروانا دونوں افعال سے ثواب ِِ دارین حاصل ہوتا ہے. مثلاً آپ نے اگر روزہ نہ بھی رکھا ہو تب بھی آپ کو افطاری نہیں چھوڑنی چاہیئے کہ ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کیوں کریں؟ حقیقت مگر یہ ہے کہ مؤخرالذکر یعنی افطاری کروانے کا ثواب بدرجہ اتم زیادہ ہے اور اس نیک عمل کا اجر اس صورت میں اور بھی بڑھ جاتا ہے؛ جب فردِ دوم، فردِ اول کو اس نیت پر مدعو کرے کہ بس رب کو راضی کرنا ہے اور بدلے کی کوئی خواہش نہ ہو؛ تو اجر بحریہ ٹاون لاہور میں بنے آئیفل ٹاور ریپلیکا کی مانند بڑھ جاتا ہے. افطاری میں سُواد آجاتا ہے.  پکوڑوں میں مواد آجاتا ہے. شربت میں مٹھاس آتی ہے. املی میں کٹھاس آتی ہے.  کجھور سے ڈیٹ کا سا مزہ آنے لگتا ہے. شربتِ بادام شربتِ فولاد کا سا لطف دیتا ہے.  سادہ پانی بھی زم زم معلوم ہوتا ہے گویا آبِ حیات.  آبِ حیات بھی ایسا کہ جس کو محبوب کے لبوں نے پہلے چُھو لیا ہو!  اس کی تاثیر کا کیا کہنا!!  اللہ اللہ!  (تحریر کے اس  رومانس بھرے موڑ پر اگر آپکو slice جوس کے اشتہار میں آنے والی محترمہ کترینہ کیف کا وہ سین یاد آتا ہے؛ ج...

وہ ساتھ بیٹھ جائے تو رکشہ بھی مرسڈیز

Image
ذی محترم قارئین!   گامی  نے ایک روز دعویٰ کیا کہ گر '' وہ  ساتھ بیٹھ جائے تو رکشہ بھی مرسڈیز! '' اور یہاں وہ سے مراد اس کی فوڈلز تھی. خاوندی نے بھی اس کے بیان کی تائید کی لہذا دونوں کو غلط ثابت کرنے کی خاطر ہمیں یہ تحریر لکھنا پڑی. سچ تو یہ ہے کہ ہر چلتی چیز کا نام گاڑی ہے اور گاڑی کی تین اقسام ہیں. 1. ایک وہ جو چار پہیوں پر چلتی ہے جسے بالعموم کار کہتے ہیں. کار یعنی سوزوکی مہران،  ڈبہ بولان، کوکا کولا تے شیزان ، لیکن ان سب سے برتر ہے مرسڈیز اور مرسڈیز میں مرسڈیز بینز.  2. اس کے برعکس تین پہیوں والی سواری جسے رکشہ کہتے ہیں  دیگر زبانوں میں سے چنگ چی بھی کہ دیتے ہیں.  3. آخر میں آتی ہے دو پہیوں کی سواری جسے موٹرسائیکل کہتے ہیں. یہ بات ہمیں تب سمجھ آئی جب ہمارے ڈرائیور نے ایک روز چُھٹی کی. اگلے روز جب ہم نے اس سے سوال کیا کہ '' میاں! کل کیوں نہیں آئے تھے؟ '' تو کہنے لگا: '' صاحب! ہماری گاڑی خراب تھی. '' ہم سراپا  سوال ہوئے کہ '' بندہ ِ خدا ! اگر تمہارے پاس اپنی گاڑی ہے تو ہماری ڈرائیوری کیوں کرتے ہو...

سینما اور مار ویل کپتان

Image
جنابِ من ! عرض کچھ یہ ہے کہ ہمیں بچپن ہی سے سینما گھر جانے کا شوق رہا ہے. بالخصوص، جب ہم سنتے تھے کہ فلاں فلم کی ریلیز پر '' کھڑکی توڑ '' رش ہوا چاہتا ہے، تو ہمارا یہ اشتیاق مہنگائی اور آبادی کی طرح بڑھتا چلا جاتا تھا. مگر موقع ہمیں تھیٹر جانے کا کبھی نہ ملا. وجہ اس کی یہ نہ تھی کہ شاید ہم کچھ خاص نیک تھے یا فضول کاموں پر خرچ نہیں کرتے  تھے ( بقول گامی '' شیخ! تم جائز کاموں پر بھی پیسے خرچ نہیں کرتے - بُخیل کہیں کے '' )  بلکہ وجہ اس کی یہ تھی کہ ہمیں کبھی کسی نے اس سلسلۂ گناہ کی دعوت ہی نہ دی تھی، تو ہم بھی بس یہ گنگناتے تھے :- واں وہ غُرورِ عز و ناز، یاں یہ حجابِ پاسِ وضع  کالج میں ہم ملیں کہاں، سینما میں وہ بلائے کیوں  لیکن پھر ایک دن ایسا آیا کہ گامی اور ہمارے درمیان دوستی کے معاہدے پر دستخط ہوئے اور اس واقعے کے عین 13 دن بعد جب کہ ہم ابھی گیارھویں کے پرچوں سے فارغ التحصیل ہوئے تھے ۔ گامی ہماری طرف آیا اور کہا '' میاں ! آؤ ذرا کہیں چلتے ہیں. '' " مگر ہم کدھر کو چلے؟ '' ہم سراپا سُوال ہوئے.  جواباً گامی ن...

شہڑِ محبوب اور فلسفہ

Image
  یہ فلسفہ بیان کرنے کی نوبت یوں آئی کہ ہمارے احباب حیران ہیں کہ جناب شہرِ زندہ دِلاں کو فدوی مسلسل شہڑِ محبوب کیوں لکھ رہا ہے؟ ہمارے سگے برادرمِ عزیز نے تو اسے اس حد تک سنجیدہ لیا کہ ہیلتھ ایکسپو پر جاکر، بجائے اس کے کہ وہاں ادویات اور ان کے بنانے کے طریقہ جات پر ریسرچ کرتے، فوری وہاں کے بُکنگ روم میں گئے اور استفسار کرنے لگے : '' جناب! ہمیں اپنے چھوٹے برادر کی دعوتِ ولیمہ ایکسپو سنٹر میں سرانجام دینی ہے چونکہ اس کا محبوب اسی شہر میں رہتا ہے - لہذا اس کی quotation دیں ذرا! ''    بات اگر یہاں تک ہوتی تو ٹھیک ہوتا مگر ہماری بھاوج جو بلاشبہ ہمارے برادرم عزیز کی زوجہ ہونا قرار پائی ہیں وہ بھی اس بات پر یقین کرچکی تھیں. تازہ تازہ بنی ایم تھری فور موٹر وے پر جب ہماری کار خراب ہوئی اور ملتان سے لاہور کا ساڑھے تین گھنٹے کی ریکارڈ مدت کا مختصر سفر ہمارے لیے نو گھنٹے طویل ہوگیا ، تو ہماری بھاوج جو اس سفر میں شومئی قسمت ہمارے ساتھ تھیں، کہنے لگیں : '' تمہارا محبوب کتنا بے تاب ہوگا، وہ بے چارہ (ہمارا محبوب بلاشبہ بے چارہ ہی ہوگا) کینال بینک روڈ پہ موجود اشفاق ا...

! خون مانگو گے ؛ خون دینگے

Image
     مزاج کی بات ہے کہ ہم فطرتاً پتھر دل ثابت ہوئے ہیں - وہ بھی  اس حد تک کہ  ہمارے سامنے اگر کسی  کے اپینڈکس کو نکال کر اس سے ربر بینڈ کی خدمات حاصل کرلی جائیں تب بھی ہم بے پروا رہیں گے. اس کے برعکس ایک نقطہ بہرحال ایسا ہے کہ جس پر ہم پگھل جاتے ہیں وہ یہ کہ کسی عزیز کو ضرورت خون کی بوتل کی آن پڑے - اس پر طرفہ یہ کہ اس لہو کی حاجت عزیز کی والدہ کو ہو - اس صورت میں تو ہمارے اندر کی مامتا جاگ اٹھتی ہے گویا :- '' سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہو'' - اور ہم پکار اٹھتے ہیں کہ '' حاضر حاضر لہو ہمارا ''.     اسی قسم کا واقعہ - پانچ ماہ قبل پیش آیا جب  ہمارے  عزیر اسفند دار بھٹہ کی والدہ کو خون کی ضرورت پڑی - گرچہ یہ ہمارا پہلی بار تھا لیکن ہم نے پرواہ نہ کی اور اپنے یاماہا جنون  ایک سو سی سی چیسس نمبر 223190 پر سوار ہوئے اور بلاجھجک سیال طبی مرکز پہنچے. وہاں پنچ کر ہم اسفند سے مخاطب ہوئے اور فرمایا :  '' ہمارا خون حامل ہذا کو مطالبہ پر عطا کیا جائے گا '' ساتھ میں ہم عثمانی کو بھی لے گئے تھے کہ ضرورت دو خون کی بوتلوں...

صبح کی حاضری - فکاہیہ

Image
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ صبح کی حاضری کو یقینی بنانے کے تین اہم جزو ہیں نمبر1 ویچر چھیدن ہال( جسے حرف عام میں ڈی ایچ یعنی ڈائسیکشن ہال کہتے ہیں ) میں وقت پر پہنچا جائے. محض لمحہ بھر دیری پر دروازہ آپ کے منہ پر دے کر مارا جائے گا.  نمبر 2 کہ آپ کے پاس ایک عدد اوور آل موجود ہو نمبر3 ایک عدد ڈی ایچ کارڈ  . جہاں تک تعلق صبح وقت پر پہنچنے کا ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ صبح گھر سے وقت پر نکلا جائے. گھر سے وقت پر نکلنے کے لئے لازم ہے کہ وقت پر تیار ہوا جائے. وقت پر تیار ہونے کے لئے لازم ہے کہ وقت پر اٹھا جائے. وقت پر اٹھنے کے لئے لازم ہے کہ وقت پر سویا جائے  گویا مندرجہ بالا جو علامات ہیں یہ تمام سحرخیزی کی ہیں اور بفضل خدا ہم اس بیماری میں مبتلا نہیں ہیں ہاں مگر گامی کو یہ عادت ہے اور اس کے نزدیک یہ بہت فضیلت والی بات  ہے. وجہ اس کی یہ ہے کہ گامی اقبال کو اپنا مرشد مانتا ہے اور اقبال نے یورپ میں رہتے ہوئے لکھا ہے کہ زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی نہ چُھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی   گامی کے نزدیک سحرخیزی کا بہتری...