Posts

چاکلیٹ کی وجہ سے موت کا واقعہ ہونا

Image
زندگی کے نشیب و فراز میں کچھ حالات ایسے آتے ہیں جب انسان بالکل مایوس ہوجاتا ہے. اس کا زندگی پر سے یقین اٹھ جاتا ہے اور وہ بس آزادی چاہتا ہے. ایسے میں اسے ایک دوست کی ضرورت ہوتی ہے اور جو دوست ضرورت کے وقت کام آئے اسے گامی کہتے ہیں. یونہی بروز دو شنبہ کا واقعہ ہے کہ ہم پر کچھ ایسے حالات آن وارد ہوئے جیسے اوپر بیان کیے گئے ہیں. ایسے میں ہم نے گامی کو ساتھ لیا، اپنی یاماہا جنون ایک سو سی سی میڈ ان جاپان چیسسز نمبر 223190 کی پشت پر سوار ہوئے اور لانگ ڈرائیو پر نکل گئے. واضح رہے کہ یہ لانگ ڈرائیو جامعہ طبی نشتر سے شمالی بائی پاس کی جانب تھی اور اس کا اہتمام دن کی تعلیمی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا گیا تاکہ مستقبل میں ہمارے تعلیمی کریئر پر حکومتی کارکردگی کی مانند انگلیاں نہ اٹھائی جائیں اور ہماری ساکھ جو دیگر انتظامی معاملات کے سبب پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے مزید دلدل میں نہ جا گھسے. اس تحریر کو لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ سند رہے اور ضرورت کے وقت کام آسکے. خیر آمدم برسرِ مقصد : اس لانگ ڈرائیو پہ ہم نے گامی کو وہ تمام مسائل بتائے جن کا ہمیں سامنا تھا. گامی فطری طور پر اگرچہ کچ...

گائے کی خوراک اور دیگر لوازمات کا بیان

Image
گائے کی خوراک اور دیگر لوازمات کا بیان:- از شیخ محمد عبداللہ ( ٤. ٨ . ٢.١٩) یوں تو عید خوشی کے تہوار کا نام ہے اور بالخصوص بڑی عید پر چونکہ ران بروسٹ کا انتظام بھی ہوتا ہے تو اس کی کچھ خاص ہی اہمیت ہے. یوں بھی بڑے بُڑھوں کا قول کا ہے کہ مرد کے دل کا راستہ پیٹ سے ہوکر گزرتا ہے ( جو سائنسی اعتبار سے بہرحال مہمل ہے مگر ہم نئی بحث نہیں چھیڑتے.) لہذا ہمارے ہاں کی خواتین کی اجتماعی طور پر یہ کوشش ہوتی ہے کہ قربانی کے گوشت سے طرح طرح کے لوزمات بنائیں جائیں جس میں مٹن قورمہ، مٹن کڑاہی، مٹن کباب، مٹن روسٹ وغیرہ شامل ہیں . الغرض مشاہدے سے ثابت ہوا ہے کہ جو بھی ڈش ہوگی اس میں مٹن یا بیف کا صیغہ ضرور استعمال ہوگا. ان کا عقیدہ ہے کہ ایسا کرنے سے قربانی کے ثواب میں اضافہ ہونے کا امکان ہے جس سے ہمیں کچھ خاص اعتراض نہیں. ہاں اس سے پیدا ہونے والی دو اہم خرابیاں مگر ہم واضح کردینا چاہتے ہیں :- 1. مرغی والوں کا کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے. 2. معدہ کی بیماریاں عام ہوجاتی ہیں. ان کا حل یہ ہے:- 1. ایسی ڈش متعارف کرائی جائے جس میں مٹن اور چکن کا امتزاج ہو گویا  ایک ہی صف میں کھڑ...

بنیادی زندگی بچاؤ اسکیم

Image
ہمارے ہاتھ ایک اسکیم لگی ہے، اصطلاح میں اسے  ذرا مختلف نام سے پکارا جاتا ہے.ہم مگر اسے'' بنیادی زندگی بچاؤ اسکیم '' لکھیں گے. لہٰذا ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ  آج بروز اتوار سے اسے اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے. کسی اور نام کی اسکیم پر کی گئی لین دین کا ذمہ دار فدوی نہ ہوگا.  اس اسکیم کا بنیادی مقصد اس  شخص کی حضرتِ عزرائیل سے بازیابی ہےجو قریب المرگ  ہو (گویا قلبی حرکت سے تقریباً محروم ہوچکا ہو- سانس نہ لے پا رہا ہو- موجودہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے زندگی سے مایوس ہوچکا ہو - بنیادی خاندانی منصوبہ بندی نہ کرنے کی وجہ سے اولاد کی کثرت رکھتا ہو مگر یہ نہ سمجھ پارہا ہو کہ ان کے لیے روٹی، کپڑے اور مکان کا بندوبست کیونکر کیا جائے اور اس فکر سے آزادی کے لیے ایک اور شادی کے متعلق سوچ رہا ہو کہ بچوں کو بیگم خود پالے ) واضح رہے کہ یہ اس اسکیم سے قدرے مختلف ہے جو حضرتِ مسیح کے ہاتھ قریباً اکیس صدیوں پہلے لگی تھی. بنیادی فرق یہ ہے کہ وہ خداداد تھی اور اس میں ُمردوں کو زندہ کیا جاتا ہے. جبکہ اِسے ہر خاص و عام سیکھ سکتا ہے اور مجموعی طور پر ہمارے...

عید مبارک

Image
ا ے دیویو! اے سجنو! سلامِ مسنون ہوا چاہتا ہے. عید کا وقت ہوا چاہتا. بندہ مبارک باد پیش کرتا ہے. آپ کو، آپ کے گھر والوں کو، آپ کے گھر والے کو، آپ کی گھر والی کو (اخری دو اصناف پہ ابھی سب کا فٹ آنا لازم نہ ہے) کو ہماری اور ہماری نا مولود آل اولاد کی جانب سے عید مبارک  واضح رہے کہ یہ مبارک دل کی اتاہ گہرائیوں سے نہ ہے کہ وہ تو سب ایسا کہ رہے ہیں اور گامی کا فلسفہ ہے کہ اپنا معیاد زمانے سے جدا رکھنا چاہئیے لہذا یہ سطحِ دل سے اسے سطحِ دل پر ہی قبول کریں کہ اندر تو اندھیر ہے. ہمارے دل میں تو فی الحال ہے آپکا معلوم نہیں 👀 اس پر مسرت موقع پر ہم ان تمام احباب کے مشکور ہیں جنہوں نے ہم غریب کی افطاری کا سامان گاہے بگاہے کیا اور جنہوں نے اس عمل سے گریز کیا ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ایک عظیم سعادت سی محروم رہے. اس سلسلے میں '' افطاری '' کے نام سے تحریر جلد منظر عام پر آئے گی. ابھی اس ویڈیو لنک سے کام  چلائیں ◀ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2357508170975991&id=100001504927501 جہاں تک تعلق عیدی لینے دینے کا ہے تو اس میں سے ہم دونوں...

افطار اور تربوز

Image
یوں تو افطاری کرنا اور کروانا دونوں افعال سے ثواب ِِ دارین حاصل ہوتا ہے. مثلاً آپ نے اگر روزہ نہ بھی رکھا ہو تب بھی آپ کو افطاری نہیں چھوڑنی چاہیئے کہ ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کیوں کریں؟ حقیقت مگر یہ ہے کہ مؤخرالذکر یعنی افطاری کروانے کا ثواب بدرجہ اتم زیادہ ہے اور اس نیک عمل کا اجر اس صورت میں اور بھی بڑھ جاتا ہے؛ جب فردِ دوم، فردِ اول کو اس نیت پر مدعو کرے کہ بس رب کو راضی کرنا ہے اور بدلے کی کوئی خواہش نہ ہو؛ تو اجر بحریہ ٹاون لاہور میں بنے آئیفل ٹاور ریپلیکا کی مانند بڑھ جاتا ہے. افطاری میں سُواد آجاتا ہے.  پکوڑوں میں مواد آجاتا ہے. شربت میں مٹھاس آتی ہے. املی میں کٹھاس آتی ہے.  کجھور سے ڈیٹ کا سا مزہ آنے لگتا ہے. شربتِ بادام شربتِ فولاد کا سا لطف دیتا ہے.  سادہ پانی بھی زم زم معلوم ہوتا ہے گویا آبِ حیات.  آبِ حیات بھی ایسا کہ جس کو محبوب کے لبوں نے پہلے چُھو لیا ہو!  اس کی تاثیر کا کیا کہنا!!  اللہ اللہ!  (تحریر کے اس  رومانس بھرے موڑ پر اگر آپکو slice جوس کے اشتہار میں آنے والی محترمہ کترینہ کیف کا وہ سین یاد آتا ہے؛ ج...

وہ ساتھ بیٹھ جائے تو رکشہ بھی مرسڈیز

Image
ذی محترم قارئین!   گامی  نے ایک روز دعویٰ کیا کہ گر '' وہ  ساتھ بیٹھ جائے تو رکشہ بھی مرسڈیز! '' اور یہاں وہ سے مراد اس کی فوڈلز تھی. خاوندی نے بھی اس کے بیان کی تائید کی لہذا دونوں کو غلط ثابت کرنے کی خاطر ہمیں یہ تحریر لکھنا پڑی. سچ تو یہ ہے کہ ہر چلتی چیز کا نام گاڑی ہے اور گاڑی کی تین اقسام ہیں. 1. ایک وہ جو چار پہیوں پر چلتی ہے جسے بالعموم کار کہتے ہیں. کار یعنی سوزوکی مہران،  ڈبہ بولان، کوکا کولا تے شیزان ، لیکن ان سب سے برتر ہے مرسڈیز اور مرسڈیز میں مرسڈیز بینز.  2. اس کے برعکس تین پہیوں والی سواری جسے رکشہ کہتے ہیں  دیگر زبانوں میں سے چنگ چی بھی کہ دیتے ہیں.  3. آخر میں آتی ہے دو پہیوں کی سواری جسے موٹرسائیکل کہتے ہیں. یہ بات ہمیں تب سمجھ آئی جب ہمارے ڈرائیور نے ایک روز چُھٹی کی. اگلے روز جب ہم نے اس سے سوال کیا کہ '' میاں! کل کیوں نہیں آئے تھے؟ '' تو کہنے لگا: '' صاحب! ہماری گاڑی خراب تھی. '' ہم سراپا  سوال ہوئے کہ '' بندہ ِ خدا ! اگر تمہارے پاس اپنی گاڑی ہے تو ہماری ڈرائیوری کیوں کرتے ہو...

سینما اور مار ویل کپتان

Image
جنابِ من ! عرض کچھ یہ ہے کہ ہمیں بچپن ہی سے سینما گھر جانے کا شوق رہا ہے. بالخصوص، جب ہم سنتے تھے کہ فلاں فلم کی ریلیز پر '' کھڑکی توڑ '' رش ہوا چاہتا ہے، تو ہمارا یہ اشتیاق مہنگائی اور آبادی کی طرح بڑھتا چلا جاتا تھا. مگر موقع ہمیں تھیٹر جانے کا کبھی نہ ملا. وجہ اس کی یہ نہ تھی کہ شاید ہم کچھ خاص نیک تھے یا فضول کاموں پر خرچ نہیں کرتے  تھے ( بقول گامی '' شیخ! تم جائز کاموں پر بھی پیسے خرچ نہیں کرتے - بُخیل کہیں کے '' )  بلکہ وجہ اس کی یہ تھی کہ ہمیں کبھی کسی نے اس سلسلۂ گناہ کی دعوت ہی نہ دی تھی، تو ہم بھی بس یہ گنگناتے تھے :- واں وہ غُرورِ عز و ناز، یاں یہ حجابِ پاسِ وضع  کالج میں ہم ملیں کہاں، سینما میں وہ بلائے کیوں  لیکن پھر ایک دن ایسا آیا کہ گامی اور ہمارے درمیان دوستی کے معاہدے پر دستخط ہوئے اور اس واقعے کے عین 13 دن بعد جب کہ ہم ابھی گیارھویں کے پرچوں سے فارغ التحصیل ہوئے تھے ۔ گامی ہماری طرف آیا اور کہا '' میاں ! آؤ ذرا کہیں چلتے ہیں. '' " مگر ہم کدھر کو چلے؟ '' ہم سراپا سُوال ہوئے.  جواباً گامی ن...