Posts

روشنی کا سراب

Image
  رات کے دو بجے ہوں، جسم سے پسینہ ایسے بہہ رہا ہو جیسے کوئی چشمہ پھوٹ پڑا ہو، اور اچانک واپڈا والوں کو اپنی سب سے پرانی دشمنی یاد آ جائے—اور 'بھڑام' کر کے لائٹ چلی جائے! پنکھا اچانک ایسی آہ بھرتا ہے جیسے اس کی آخری سانس نکل گئی ہو۔ پورے محلے میں ایک عجیب سا سناٹا اور پھر اچانک بچوں کے رونے اور بڑوں کے کوسنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ مگر اس عذاب کے وقت بھی، آپ کے چہرے پر ایک مخصوص، تھوڑی شاطر اور تھوڑی فخر والی مسکراہٹ آتی ہے۔ آپ اندھیرے میں ہی دیوار پر لگے اس چھوٹے سے ڈبے (انورٹر) کی طرف دیکھتے ہیں جو تھوڑی دیر میں 'ٹک' کی آواز کرتا ہے اور پورے گھر میں پنکھے اور لائٹس دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ آپ سکون سے ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں، *"چلو بیٹا، لیتھیم بیٹری فل چارج ہے، صبح تک کا بیک اپ پکا ہے۔ اور صبح ہوتے ہی سورج چاچو نکل آئیں گے، مفت کی بجلی پھر شروع۔ ہم نے تو اسباب کا سرتاج پکڑا ہوا ہے، دنیا جائے بھاڑ میں!"* آپ اسی غرور اور سکون کے ساتھ بستر پر سیدھے ہوتے ہیں اور نیند کی آغوش میں جانے ہی والے ہوتے ہیں کہ اچانک اندھیرے میں سے، ذہن کے کسی کونے سے...

ایک آلو، ہم، اور ہماری 'نباتاتی' زندگی

Image
  حضرات! میڈیکل کالج کے کوریڈورز کی خاک چھانتے اور طب کی دبیز کتابیں کھنگالتے ہوئے آج ایک ایسی اصطلاح سے مڈبھیڑ ہوئی کہ چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم تو خام خیالی میں اسے فقط دماغی مریضوں کا تذکرہ سمجھے بیٹھے تھے، مگر بغور جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ ظالموں نے تو پورے دورِ حاضر کا روزنامچہ لکھ مارا ہے۔ اس کیفیت کو فرنگی زبان میں 'Persistent Vegetative State' کہتے ہیں۔ سلیس اردو میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض بظاہر جاگتا ہے، آنکھیں بھی کھولتا ہے، مگر اس کی کسی بھی حرکت کا کوئی مصرف یا مقصد نہیں ہوتا (No purposeful behavior)۔ اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کیا ہم سب کا حال بھی من و عن ایسا ہی نہیں؟ زندگی بس ایک بے مقصد 'سلیپ ویک سائیکل' (Sleep-wake cycle) بن کر رہ گئی ہے۔ گویا تسلیمؔ نے برسوں پہلے ہمارے اسی جدید معمول کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا تھا: صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے   عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے اس مستقل نباتاتی کیفیت (Vegetative State) کو دیکھتے ہوئے اگر آج کے انسان کا تقابل ایک عام 'آلو' سے کیا جائے تو، سچ جانیے، آلو کا پلڑا کہیں زیادہ بھاری اور باوقار معلوم ہو...

Phantom Pain - A Philosophical Deep Dive - Dr. Abdullah Sheikh

Image
 کچھ ہجرتیں محض جسمانی نہیں ہوتیں، وہ روح کے بخیے ادھیڑ دیتی ہیں۔ جب جسم کا کوئی حصہ کٹ کر الگ ہو جائے تو کیا دماغ اسے اتنی آسانی سے بھول پاتا ہے؟ نہیں... وہ ایک ان دیکھے، ان چھوئے درد کی صورت میں وہیں دھڑکتا رہتا ہے، کسک بن کر جاگتا ہے۔ دل کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ محبت میں جب کوئی بچھڑتا ہے—خواہ اسے ہم نے اپنی کٹھن، سنگلاخ اور طویل منزلوں کی خاطر خود ہی کیوں نہ شعوری طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہو—تو وہ ہماری ذات سے مکمل طور پر منہا نہیں ہوتا۔ اس کی چھوڑی ہوئی اس خاموش اور اداس جگہ کو یادیں، مانوس عادتیں، اور وہ گہری خاموشیاں بھر دیتی ہیں جو کبھی دو لوگوں کے درمیان طویل گفتگو کا کام کرتی تھیں۔ انسان دنیا کی نگاہ میں تو رخصت ہو جاتا ہے، لیکن دل کی اندھی ویرانیوں میں، ہماری روح کی   تاریں اب بھی اس وجود کو پکار رہی ہوتی ہیں  جسے اب لوٹ کر نہیں آنا، جو اب اس پکار کا جواب نہیں دے سکتا۔ پھر ایک دکھ وہ بھی ہوتا ہے، ان خوابوں کا دکھ جو سرے سے ہمارے تھے ہی نہیں۔ یہ اس شخص کی اذیت کی مانند ہے جو پیدائشی طور پر کسی عضو سے محروم ہو، مگر پھر بھی اس کا دماغ اس ان دیکھے، ان سہے حصے...

دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم

Image
                                دو ماؤں کا بچہ اور ایک ڈرم بچپن میں محلے کی بزرگ خواتین سے اکثر ایک کہاوت سننے کو ملتی تھی کہ "دو ماؤں کا بچہ اکثر بھوکا مرتا ہے " ۔ اس وقت ہم اسے محض ایک گھریلو طعنہ یا ادبی مبالغہ سمجھتے تھے، اور دل ہی دل میں ان کی قدامت پسندی پر مسکراتے تھے۔ پھر ہم نے ڈاکٹری کی تعلیم شروع کر دی، اور یہ سوچ کر سینہ چوڑا کر لیا کہ اب ہم سائنس کی ان بلندیوں کو چھوئیں گے جہاں ان دیسی کہاوتوں کا کوئی گزر نہیں ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے بعد بھی ہمارا وہ پرانا ادبی پہلو مر نہیں سکا اور ہم نے سائنس میں بھی ادب کو ڈھونڈ ہی لیا۔ دماغ کے نوابی محلے علمِ اعصاب  کی موٹی کتابوں میں ہمارا سامنا دماغ کے کچھ ایسے 'وی آئی پی' علاقوں سے ہوا جنہیں انگریزی میں 'واٹر شیڈ زونز'   کہا جاتا ہے۔ ان کی نوابی کا یہ عالم ہے کہ انہیں خون فراہم کرنے کے لیے ایک نہیں بلکہ دو دو شریانیں مقرر ہوتی ہیں۔ دیکھنے والا رشک کرے گا کہ کیا خوش قسمت علاقے ہیں جنہیں دو دو طرف سے رزق پہنچ رہا ہے۔ مگر جناب، قد...

The Epidemiology of the Yellow Ghost: A Clinical Trial in Reclaiming My Brain 👻📉

 The Epidemiology of the Yellow Ghost: A Clinical Trial in Reclaiming My Brain 👻📉 For years, humanity has survived plagues, famines, and the grueling rigors of medical training. Yet, nothing could have prepared us for the most debilitating affliction of the 21st century: the compulsion to photograph a ceiling fan every twenty-four hours just to sustain a pixelated fire emoji. 🔥 After conducting a rigorous, first-hand clinical trial on my own sanity, I am officially announcing my retirement from the "Streak" industry. Here are the findings of my qualitative study: 1. The Counterfeit Currency of Intimacy 📱 We have somehow convinced ourselves that sending a blurry image of our forehead inscribed with a solitary "S" to 50 people constitutes a relationship. It is a fake connectivity. We are led to believe we are involved in each other’s lives, but in reality, we are just consuming a highly curated, ten-second mirage that evaporates the moment the screen goes dark. 2....

قصہ ہمارے نکاح کا

Image
  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔  ‏ اے لوگو ہمارا نکاح نہیں ہوا ۔  خدا کی قسم ! ہمارا نکاح نہیں ہوا ۔  ‏ نکاح تو دور کی بات ، اللہ جانتا ہے منگنی بھی نہیں ہوئی  اور  نہ ہی کسی گھرانے میں ہمارے رشتے کی بات چلائی گئی ہے ۔ لہذا ہمیں اس قسم کے میسج کر کے شرمندہ نہ کیجئے کہ "عبداللہ ! کیا تمہارا نکاح ہوگیا ہے؟ " " میاں صاحب کیا  منگنی طے پا گئی ہے ؟ " کیونکہ یہ نہ  صرف ہمارے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ ان سوالات سے ہمیں مایوسی اور یہاں تک کہ ڈپریشن ہو رہا ہے کہ اس عمر میں جہاں ہمارے ہم جماعتوں کے بال بچے ہو چکے ہیں ( مثال کے طور پر محمد امین کو ہی لیجیے  جس نے فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس میں ایڈمیشن کے ساتھ ہی شادی کر لی اور پہلے پراف کی پریپس کے دوران اس کے ہاں اللہ کی رحمت آن موجود ہوئی ) اس کے برعکس ہم ابھی تک یہاں کنوارے پھر رہے ہیں اور آئندہ بہت سالوں تک خود کو اسی حالت میں پا رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں پھر ڈپریشن نہ ہو تو اور کیا ہو ؟  اس ساری صورتِ حال کے ذمہ دار بہرحال ہم خود ہیں ۔ ہوا کچھ اس ...

ایموجیز کا بیان - عالمی یومِ ایموجی

Image
ایموجیز کا بیان - عالمی یومِ ایموجی از محمد عبداللہ شیخ  آ ج دنیا بھر میں عالمی یومِ   ایموجی منایا جارہا ہے. اس سلسلے میں ایموجیز کا بیان لازمی سمجھا. یاد رہے کہ میسنجر پر بندر والی ایموجی نہایت خوبصورت اور ڈیٹیلڈ ہے. اس کے برعکس واٹس ایپ پر رونے والی ایموجی نہایت بہترین ہے اور آگ والی ایمعجی کے تو کیا کہنے. بالکل اصل کی مانند معلوم ہوتی ہے. ان دو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے علاوہ ہم کوئی ویب سائٹ زیادہ استعمال نہیں کرتے ورنہ ہمیں یقین ہے کہ انسٹاگرام اور اس قسم کی دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بہترین قسم کی ایموجی بہرحال ہوا کرتی ہوں گی. یہاں تک کہ ہمارے علم میں ہے کہ اسنیپ چیٹ پر تو بندے کو ہی ایموجی بنا دینے کا بندوبست موجود ہے.          مگر ذرا تصور کیجئے کہ کس طرح سے یہ ایموجیز ہمارے دماغوں کو مینیپولیٹ کرتی ہیں جبکہ دوسری طرف آن لائن تحریر میں حُسن پیدا کرتی ہیں. ذرا یاد ہو تو، ایک وقت تھا کہ جب فیس بک پر صرف لائک کا سائن ہوا کرتا تھا. آہستہ آہستہ یہ ایموجیز سامنے آئیں یعنی لائک، لو، لاف، سیڈ اور اینگری. حال ہی میں کئیر ایموجی کا ب...

کرینیل نروز اور کافی

Image
حالیہ COVID-19 کا لاک ڈاؤن اور بوریت لیکن ہم جتنے بھی بور ہو جائیں ہم نے کتابیں نہ اٹھانے کی قَسم کھا رکھی تھی - مگر یہ قَسم اس وقت توڑنا پڑی جب شعبہ فعلیات کی جانب سے آن لائن تفویضات کا نوٹِس ملا- پہلی تفویض اور اتنے مشکل سُوالات کتاب اٹھاتے ہی بنی - ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے نہ جانے کیسے ہمیں کافی اعصاب، معاف کیجیے گا! "قحفی اعصاب" کے نام یاد کرنے کی سُوجھی، ہم نہیں جانتے، اور ہر بار کی طرح اِس بار بھی گامی، جو کہ ہمارا بہترین دوست ہے، سے رابطہ کیا گیا- اُس کے بعد جو دلچسپ حالات و واقعات پیش آئے، اُن کی داستان تحریری صورت میں پیشِ خدمت ہے - ارے! ارے! یہ تو ہم بتانا ہی بھول گئے کہ قحفی اعصاب، جنہیں انگریزی لغت میں cranial nerves کہتے ہیں، دراصل وہ اعصاب ہیں جو دماغ سے شروع ہو کر کھوپڑی کے سوراخوں سے گزر کر آتی ہیں اور ان کی کل تعداد 24 ہے -                 ہوا کچھ یوں کہ لاک ڈاؤن کے سبب گامی کے ہاں جانا تو ممکن نہ تھا لہٰذا فدوی نے سماجی رابطے کی ایپلیکیشن واٹس ایپ کا استعمال کیا اور یوں سراپا سوال ہوئے : "میاں گامی! ذرا یہ تو ...

قرنطینہ اور گامی

Image
اے پڑھنے والو! پڑھو کہ آج فدوی نے دورِحاضر کی ایک نہایت ہی نازک صورتحال پر لکھ ڈالا ہے. اس صورتحال سے نہ صرف ہم بلکہ گامی سمیت ہمارے تمام ہی احباب متاثر ہوئے ہیں. جو لفظ اس کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے وہ بہرحال ہماری موجودہ ادبی صلاحیتوں اور سمجھ بوجھ سے بالاتر ہے. گوگل نے اس کا ترجمہ الگ تھلگ رہنے کا کیا ہے جبکہ اردو پوائنٹ کے مطابق اس کے لفظی معنی ایک خاص مدت کے لیے ایک جگہ رہنے کے ہیں. گامی کے مطابق ا س کا مطلب طبی قید ہے.   ہمارا یہ ماننا ہے کہ یہ لفظ غیر ضروری طور پر اتنا مشکل رکھا گیا ہے. یہی وجہ ہے کہ پہلے تو ہم اس لیے  پریشان رہے کہ اس کی املا کیا ہو گی؟  قرطینہ، قرنطینہ، قرقطینہ یا کترینہ.  گویا ان چار میں سے ایک آخری لفظ ہمیں جانا پہچانا لگا کیونکہ محترمہ کو ہم نے ایک عدد جوس کے اشتہار میں غالب کے پسندیدہ آم کے ساتھ کچھ غیر اخلاقی حرکات کرتے دیکھا تھا جنہیں دلکھنے سے ہم عاجز ہیں.   بہر حال تین چار اساتذہ سے رہنمائی لینے کے بعد یہ بات مستند قرار پائی کہ اصل لفظ قرنطینہ ہے اور اس قرنطینہ کو حکومتِ وقت نے نافذ کیا ہے. اس کے نفاذ کی وج...

گیزر کا بیان - از عبداللہ شیخ

Image
           سردیاں آتی ہیں تو گیزر چلتا ہے ''  '' زیادہ سردیاں آتی ہے تو زیادہ گر چلتا ہے یہ کہاوت ہمارے بہترین دوست حضرت گامی کی کتاب فضولیات گامی سے ماخذ ہے.  اس کتاب کے دو فضائل ہیں :-  1.  ایک عام آدمی کی زندگی میں پیش آنے والے تمام ہی معمولی واقعات کو مثلا : ¶ سردیوں میں گیس فراہم کرنے والے ادارے ایس این جی پی ایل کی بے حسی کی بدولت ٹھنڈے پانی سے نہانا ¶ سارا سال شغل میں گزارنے کے بعد عین امتحان سے تیس چالیس دن پہلے جب پڑھائی میں مشغول ہو تو زندگی سے مایوس ہو جانا  ¶نو بیاہتے جوڑے سے بار بار سوال کرنا کہ خوشخبری کب سنا رہے ہو گویا آبادی میں خاطر خواہ اضافہ کی خبر کب سنا رہے ہو   اس قسم کے دیگر معاملات کو نہایت غیر معمولی انداز میں پیش کیا گیا ہے 2.  اس کتاب کی یہ فضیلت بھی ہے کہ یہ اس میگزین کی مانند ہے جس کی ہم نے کالج کے سال اول میں پرزور بنیاد رکھی مگر معاملہ بنیاد سے آگے نہ بڑھ سکا گویا نیڈو آئرن کی کمی کا شکار تھا اور آج تک اس کا شکار ہے گو دونوں کو کبھی شائع ہونے کا موقع ہی نہیں...

شناختی کارڈ

Image
  شناختی کارڈ   ( فدوی کی پہلی فکاہیہ تحریر جو مکمل نہ ہوسکی - اپنی بیسویں سالگرہ پر  مگر ایک پیرا شائع کیے دیتے ہیں کہ حالات سے مماثلت رکھتا تھا)  24 ستمبر 1999ء کا واقعہ ہے کہ صبح کاذب سے تقریبا تین گھنٹے بعد اور صبح صادق سے اندازا" نوے منٹ بعید عالم دنیا کے بوجھ میں ساڑھے چھے پائونڈ کا اضافہ ہوا اور نتيجاتا" فدوی نے اس ہوا' پانی مٹی کی بنی زمین پر آنکھ کھولی ۔ ننھے مہمان کی آمد پر اہل خانہ غالبا" بہت مسرور تھے لہذا شہر بھر میں مٹھائی کا دور چلایا گیا ، ہم بذات خود ایک دو ایسے بزرگوں کو جانتے ہیں کہا انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے معدہ اور لبلبے سے ازلی دشمنی نکالتے ہوئے خوب "جمو" کھائے اور بالآخر خود کو شوگر کےعارضے میں مبتلا پایا. یہ ایسی بیماری ہے کہ الله بچائے ! خیر 24 تاريخ والے واقعہ یعنی فدوی کی پیدائش کی تاریخ میں اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت ہے کہ یہ پاک بھارت جنگ 1965ء کی جنگ بندی کے عین 34 برس جمع چھیاسی ہزار چار سو سیکنڈ بعد پیش آیا ۔ لہذا یہ واقعہ امن کی علامت قرار پاتا ہے، ان تفصیلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم" نا...

چاکلیٹ کی وجہ سے موت کا واقعہ ہونا

Image
زندگی کے نشیب و فراز میں کچھ حالات ایسے آتے ہیں جب انسان بالکل مایوس ہوجاتا ہے. اس کا زندگی پر سے یقین اٹھ جاتا ہے اور وہ بس آزادی چاہتا ہے. ایسے میں اسے ایک دوست کی ضرورت ہوتی ہے اور جو دوست ضرورت کے وقت کام آئے اسے گامی کہتے ہیں. یونہی بروز دو شنبہ کا واقعہ ہے کہ ہم پر کچھ ایسے حالات آن وارد ہوئے جیسے اوپر بیان کیے گئے ہیں. ایسے میں ہم نے گامی کو ساتھ لیا، اپنی یاماہا جنون ایک سو سی سی میڈ ان جاپان چیسسز نمبر 223190 کی پشت پر سوار ہوئے اور لانگ ڈرائیو پر نکل گئے. واضح رہے کہ یہ لانگ ڈرائیو جامعہ طبی نشتر سے شمالی بائی پاس کی جانب تھی اور اس کا اہتمام دن کی تعلیمی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا گیا تاکہ مستقبل میں ہمارے تعلیمی کریئر پر حکومتی کارکردگی کی مانند انگلیاں نہ اٹھائی جائیں اور ہماری ساکھ جو دیگر انتظامی معاملات کے سبب پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے مزید دلدل میں نہ جا گھسے. اس تحریر کو لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ سند رہے اور ضرورت کے وقت کام آسکے. خیر آمدم برسرِ مقصد : اس لانگ ڈرائیو پہ ہم نے گامی کو وہ تمام مسائل بتائے جن کا ہمیں سامنا تھا. گامی فطری طور پر اگرچہ کچ...

گائے کی خوراک اور دیگر لوازمات کا بیان

Image
گائے کی خوراک اور دیگر لوازمات کا بیان:- از شیخ محمد عبداللہ ( ٤. ٨ . ٢.١٩) یوں تو عید خوشی کے تہوار کا نام ہے اور بالخصوص بڑی عید پر چونکہ ران بروسٹ کا انتظام بھی ہوتا ہے تو اس کی کچھ خاص ہی اہمیت ہے. یوں بھی بڑے بُڑھوں کا قول کا ہے کہ مرد کے دل کا راستہ پیٹ سے ہوکر گزرتا ہے ( جو سائنسی اعتبار سے بہرحال مہمل ہے مگر ہم نئی بحث نہیں چھیڑتے.) لہذا ہمارے ہاں کی خواتین کی اجتماعی طور پر یہ کوشش ہوتی ہے کہ قربانی کے گوشت سے طرح طرح کے لوزمات بنائیں جائیں جس میں مٹن قورمہ، مٹن کڑاہی، مٹن کباب، مٹن روسٹ وغیرہ شامل ہیں . الغرض مشاہدے سے ثابت ہوا ہے کہ جو بھی ڈش ہوگی اس میں مٹن یا بیف کا صیغہ ضرور استعمال ہوگا. ان کا عقیدہ ہے کہ ایسا کرنے سے قربانی کے ثواب میں اضافہ ہونے کا امکان ہے جس سے ہمیں کچھ خاص اعتراض نہیں. ہاں اس سے پیدا ہونے والی دو اہم خرابیاں مگر ہم واضح کردینا چاہتے ہیں :- 1. مرغی والوں کا کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے. 2. معدہ کی بیماریاں عام ہوجاتی ہیں. ان کا حل یہ ہے:- 1. ایسی ڈش متعارف کرائی جائے جس میں مٹن اور چکن کا امتزاج ہو گویا  ایک ہی صف میں کھڑ...

بنیادی زندگی بچاؤ اسکیم

Image
ہمارے ہاتھ ایک اسکیم لگی ہے، اصطلاح میں اسے  ذرا مختلف نام سے پکارا جاتا ہے.ہم مگر اسے'' بنیادی زندگی بچاؤ اسکیم '' لکھیں گے. لہٰذا ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ  آج بروز اتوار سے اسے اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے. کسی اور نام کی اسکیم پر کی گئی لین دین کا ذمہ دار فدوی نہ ہوگا.  اس اسکیم کا بنیادی مقصد اس  شخص کی حضرتِ عزرائیل سے بازیابی ہےجو قریب المرگ  ہو (گویا قلبی حرکت سے تقریباً محروم ہوچکا ہو- سانس نہ لے پا رہا ہو- موجودہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے زندگی سے مایوس ہوچکا ہو - بنیادی خاندانی منصوبہ بندی نہ کرنے کی وجہ سے اولاد کی کثرت رکھتا ہو مگر یہ نہ سمجھ پارہا ہو کہ ان کے لیے روٹی، کپڑے اور مکان کا بندوبست کیونکر کیا جائے اور اس فکر سے آزادی کے لیے ایک اور شادی کے متعلق سوچ رہا ہو کہ بچوں کو بیگم خود پالے ) واضح رہے کہ یہ اس اسکیم سے قدرے مختلف ہے جو حضرتِ مسیح کے ہاتھ قریباً اکیس صدیوں پہلے لگی تھی. بنیادی فرق یہ ہے کہ وہ خداداد تھی اور اس میں ُمردوں کو زندہ کیا جاتا ہے. جبکہ اِسے ہر خاص و عام سیکھ سکتا ہے اور مجموعی طور پر ہمارے...

عید مبارک

Image
ا ے دیویو! اے سجنو! سلامِ مسنون ہوا چاہتا ہے. عید کا وقت ہوا چاہتا. بندہ مبارک باد پیش کرتا ہے. آپ کو، آپ کے گھر والوں کو، آپ کے گھر والے کو، آپ کی گھر والی کو (اخری دو اصناف پہ ابھی سب کا فٹ آنا لازم نہ ہے) کو ہماری اور ہماری نا مولود آل اولاد کی جانب سے عید مبارک  واضح رہے کہ یہ مبارک دل کی اتاہ گہرائیوں سے نہ ہے کہ وہ تو سب ایسا کہ رہے ہیں اور گامی کا فلسفہ ہے کہ اپنا معیاد زمانے سے جدا رکھنا چاہئیے لہذا یہ سطحِ دل سے اسے سطحِ دل پر ہی قبول کریں کہ اندر تو اندھیر ہے. ہمارے دل میں تو فی الحال ہے آپکا معلوم نہیں 👀 اس پر مسرت موقع پر ہم ان تمام احباب کے مشکور ہیں جنہوں نے ہم غریب کی افطاری کا سامان گاہے بگاہے کیا اور جنہوں نے اس عمل سے گریز کیا ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ایک عظیم سعادت سی محروم رہے. اس سلسلے میں '' افطاری '' کے نام سے تحریر جلد منظر عام پر آئے گی. ابھی اس ویڈیو لنک سے کام  چلائیں ◀ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2357508170975991&id=100001504927501 جہاں تک تعلق عیدی لینے دینے کا ہے تو اس میں سے ہم دونوں...